دنیا کے سامنے اکڑ کر چلنے والا لڑکا
اگر جُھک کر تمہاری پایل باندھے تو مانوں گی عشق ھے
محبت " اور عشق سے بچ کے رہنا "صاحب"
محبت کا میم موت ہے اور عشق کا عین عذاب
عشق کو ساری سزائیں جچتی ہیں
عشق ضبط کمال کا رکھتا ہے
تیرا ہر لمحہ اس موسم میں بے حد پاس لگتا ہے
یہی وہ بات ہے جس سے دسمبر خاص لگتا ہے
میں جو خود کو سنجیدہ لکھتی ہوں
ایک شخص مجھے شرارتی کہتا ہے
اس ڈر سے کہ کٹ جائیں نہ بینائی کے ریشے
آنکھوں نے تیری راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا
اگر تو مل نہیں سکتا تو کچھ تدبیر ایسی ہو
میری آنکھوں سے تجھ کو عمر بھر دیکھا کرے کوئی
لفظ پھولوں کی طرح چُن کر تجھے دان کروں
تجھ پر جچتے ہیں سبھی نام محبت والے
عشق ہے تو ظاہر کر بنا کر چائے حاضر کر
ادرک ڈال یا ڈال الائچی،کوٹ کر محبت بھی شامل کر
خواب آنکھوں سے جدا ہوتے ہی مر جاؤں گی
آتشِ عشق میں بے باک اُتر جاؤں گی
عشق وہ کارِزیاں ہے کہ اَمر ہونے تک
خاک میں لپٹی پِھروں گی تو سُدھر جاؤں گی
سات رنگوں کی قَـسم تُو مرا رنگِ ہشتم
میں تیرے رنگ میں رنگتے ہی سنور جاؤں گی
جاکے بیٹھوں گی تری سِمت جھکائے نظریں
نہ میں بھٹکوں، نہ کسی اور کے در جاؤں گی۔
میرے چھوڑنے کی دیر تھی وہ مر گیا کسی اور پر
ہائے وہ شخص جس کی نسبت سے
ایسے ویسے بھی اچھے لگتے ہیں
حق بہ جانب ہیں آپ اترائیں
ہم کہاں ہر کسی پہ مرتے ہیں
ساز میں کھوئے رہے سوز نہ سمجھا کوئی
درد کی ٹِیس تھی، پازیب کی چَھم سے آگے
وہ معجزے سکُوت کے ہم کو بھی عطا کر
ہم حالِ دل سنائیں ، مگر گفتگو نہ ہو
شاعری اس کے لب پہ سجتی ہے
جس کی آنکھوں میں عشق روتا ہے
ہوۓ بدنام مگر پھر بھی نہ سدھر پائے ہم
پھر وہی شاعری، پھر وہی جاگنا، پھر وہی عشق، پھر وہی تم
کاش تو میری آنکھوں کا آنسو بن جائے
میں رُونا چھوڑ دوں تجھے کھونے کے ڈر سے
تمہیں اپنی آنکھوں میں نہیں رکھا کہیں آنسوؤں کے ساتھ بہہ نہ جاؤ
تمہیں اپنے دل میں رکھا ہے تاکہ ہر دھڑکن کے ساتھ یاد آؤ
انتظار یار بھی ---------- لطف کمال ہے
آنکھیں کتاب پر اور سوچیں جناب پر
اس نے کہا شاعری ادھوری ہے تیری
میں نے کہا جس کا عشق ادھورا ہو وہ الفاظ کہاں سے لائے
آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گُماں ہو
نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے
میرے تن سے مہکتی ہے تیری خوشبو
اسے اپنی سانسوں سے ہٹاؤں کیسے
تیرے عشق کا سجدہ کیا ہے میں نے
تیری صورت سے نظریں ہٹاوں کیسے
دو قسم کے لوگوں کو عشق بڑا شدید ہوتا ہے
ایک وہ جو دوسروں کی محبت کا مذاق اڑاتے ہیں دوسرے وہ جو اس کو سرے سے مانتے ہی نہیں
توڑیں گے غرور عشق کا اور اس طرح سدھر جائیں گے محبت کھڑی ہوگی راستے میں ہم سامنے سے گزر جائیں گے
ہم نے ہاتھ پھیلا کر صرف عشق مانگا تھا
آپ نے تو ہاتھ چوم کر جان نکال دی
ہم نہیں کرتے توبہ عشق سے عشق تو ہمارا پیشہ ہے
وہ عشق ہی کیا جس میں یار بے وفا نہ ہو
یہ عشق محبت کچھ بھی نہیں ہوتا
جو شخص آج تیرا ہے کل کسی اور کا ہو گا
اندازِ عشق بھی کیا خوب تھا اس بے وفا کا
ہزاروں درد دے گیا ہمیں جان کہتے کہتے
خوشیاں تو کب کی روٹھ چکی ہیں
کاش کہ غموں کو بھی نظر لگ جائے جناب
چُھپی ہوئی حقیقت بتا رہے ہیں جناب
نظر کے شرک والوں سے محبت نفرت کرتی ہے
عیاں کر دی ہر ایک پر ہم نے اپنی داستانِ دل
یہ کس کس سے چھپانی تھی نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
یہ جسم ہے تو کیا
یہ روح کا لباس ہے
یہ درد ہے تو کیا
یہ عشق کی تلاش ہے۔
وہ عشق میں ہم سے انتہا چاہتا ہے
رکھ کے ساتھ رقیب ہم سے وفا چاہتا ہے۔
سو بار اک گلی میں مجھے لے گیا یہ وہم
کھڑکی سے کوئی مصلحتاً جھانکتا نہ ہو۔
میرے پاس تھی میری تشنگی ، تیرے پاس جامِ شراب تھا
تیرا پیار تھا میری شاعری ، تیرا عشق میری کتاب تھا۔
پوچھو نہ کچھ جو حال ہمارا ہے اِن دنوں
یہ دل کسی کے عشق کا مارا ہے ان دنوں
اے دوست تجھ کو دیکھا تو ایسا لگا مجھے
اُترا ہوا زمیں پہ ستارہ ہے ان دنوں
شاید مِری تلاش میں ہو موسمِ بہار
مجھ کو یہی ہوا کا اشارہ ہے ان دنوں
نیند آئے بھی تو رہتا ہے آنکھوں سے دور دور
وہ خواب جس پہ اپنا گزارہ ہے ان دنوں
یہ بھی کسی کے قرب کا اعجاز ہے میاں
مجھ کو مرا وجود گوارا ہے ہے ان دنوں
اشرف اُڑوں نہ کیسے میں اونچی ہواؤں میں
میرا کسی کے دل پہ اجارہ ہے اِن دنوں
اشرف نقوی
؎
ہجر دیجئے ۔ صبر دیجئے کوئی کُشادہ قبر دیجئے
محبت دے نہیں سکتے ؛؛؛ ایسا کیجئے زہر دیجئے
اتنا بھی نہ امید دلِ کم نظر نہ ہو
ممکن نہیں کہ شامِ الم کی سحر نہ ہو
غریبی امیری ہے قسمت کا سودا
ملو آدمی کی طرح آدمی سے
ناز کیا اس پہ جو بدلا ہے زمانے نے تمہیں
مرد ہیں وہ جو زمانے کو بدل دیتے ہیں
گُمشدگی ہی اصل میں یارو رہنمائی کرتی ہے
راہ دکھانے والے پہلے برسوں راہ بھٹکتے ہیں
چلے چلیئے کہ چلنا ہی دلیلِ کامرانی ہے
جو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پا نہیں سکتے
ہم جن کو رخصت کرتے ہیں
وہی تو ہمارا استقبال کریں گے
ہم تو تھے تو سب کچھ تھا
تو رہا نہیں کچھ بچا نہیں
تھکے نہیں ابھی ہم تقسیم کے سفر سے
فرقوں میں ایک فرقہ "انسان" بھی ہونا چاہیے
اکثر قصور ہمارے الفاظ کا ہوتا ہے
جو سامنے والے کو ہم سے دور کر دیتا ہے
جب یقین ٹوٹتا ہےتوی
سب سے پہلے زبان خاموش ہو جاتی ہے
عید مبارک پر سب نے عید منائی اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلا عید ہے❤️💥
دنیا میں سب سے زیادہ وزنی چیز مطلب ہے
جب یہ نکل جائے تو ہر چیز ہلکی ہو جاتی ہے
عمر کا تعلق سالوں سے نہیں ہوتا بعض اوقات
انسان عین جوانی میں صدیوں پرانا ہو جاتا ہے
مسلسل میسر رہنا بھی قدر کم کر دیتا ہے
میرے ازل سے جوانی تک
تم تم اور بس تم۔۔۔۔

0 Comments